ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا موقف مضبوط ، کانگریس کو ووٹ دینے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حسین کی پر زور اپیل 

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا موقف مضبوط ، کانگریس کو ووٹ دینے رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر سید ناصر حسین کی پر زور اپیل 

Tue, 08 May 2018 17:04:10    S.O. News Service

گلبرگہ، 8؍مئی (ایس او نیوز) ممتاز کانگریسی قائد ڈاکٹر سید ناصر حسین نے جو حال ہی میں کرناٹک سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں ، گلبرگہ میں 8مئی کو منعقدہ ایک صحافتی کانفرینس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 12مئی کو کرناٹک اسمبلی کی نشستوں کے لئے رائے دہی منعقد ہونے جارہی ہے اور اس بار بھی انڈئین نیشنل کانگریس کے دوبارہ اقتدار پر آنے کے قوی امکانات ہیں۔ڈاکٹر سید ناصر حسین جو ایک فعال کانگریسی قائد ہیں ن کا تعلق ضلع بلاری علاقہ حیدر آباد کرناٹک سے ہے۔ کرناٹکپردیش کانگریس کمیٹی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے کہنے پر انھوں نے حال ہی میں اضلاع بیدر ،گلبرگہ ، رائیچور، بلاری اور چتردرگا کا اننتخابی دورہ کیا ۔ 

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ اس بار ایسا لگ رہا ہے کہ اقلیتیں ، دلت اور پس ماندہ طبقات سب مل کر کانگریس کی طرف ہوگئے ہیں تو دوسری طرف لنگایتؤ مذہب سے تعلقہ رکھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ بھی اس بار کانگریس کے ساتھ ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سابق کے مقابلہ میں اس بار لنگایتوں کے بہت زیادہ ووٹ کانگریس کو مل رہے ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جو کرناٹک کا انتخابی دورہ کیا اس کا زیادہ اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کیوں کہ دیہی علاقوں میں کانگریس کی پانچ سالہ خدامت اور پالیسیوں کے سبب لوگ کافی خوش ہیں ۔ ؤکارناتک کی کانگریس حکومت نے چیف منسٹر سدرامیا کی قیادت میں کسانوں کے قرضے معاف کئے ۔ اس کے عالوہ دیگر حکومتی اسکیموں سے بھی ساری ریاست کے عوام کو خوب فائیدہ پہنچا ہے۔ ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ لنگایت مذہب کے لوگوں میں دو مذہبی فرقے بنے ہیں اس کے سبب زیادہ سے زیادہ ووٹ کانگریس ہی کو ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کرناٹک میں ہر حلقہ اسمبلی میں جہاں مسلم امیدوار ہیں وہاں کانٹے کی ٹکر ہے ۔خاص طور پر علاقہ حیدر آباد کرناٹک میں بی جے پی کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کوشکست دے کر اسمبلی میں ان کی نمائیندگی کم سے کم کی جائے ۔ یہاں ہر طرح کی چالیں چلی جارہی ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے سارے چھوٹے موٹے اختلافات کو فراموش کرکے اپنے ووٹوں کوؤ منقسم ہونے سے بچائیں اور ایک طرف ہوکر ووٹ دیں۔ 

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ جمہوریت میں چند باتیں بڑی اہم ہوتی ہیں ۔سیکیوریٹی یا احساس یا تحفظ کی فراہمی ، تمام مذہبی طبقات کی حصہ داری اور خاص طور پر اقلیتی طبقات کی آواز کو زندہ رکھنے کے لئے انھیں سیاسی نمائیندگی اور ملک کی ترقی میں تمام مذاہب کے لوگوں کی حصہ داری۔ہندوستانی سیاست میں ان اہم امورکا انڈئین نیشنل کانگریس نے ہی ہمیشہ خیال رکھا ہے۔اقلیتوں کے وجود کو سیاسی مین اسٹریم میں اور سیاسیمعاملات میں بنائے رکھنا بے حد ضروری ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ اسی پالیسی پر عمل کیا ہے ۔ اس کے برخلاف فرقہ پرست بی بی جے پی آج اقلیتوں کے وجود ہی کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ معاملہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ہوچکا ہے ،لیکن کرناٹک میں کسی بھی حالت میں ایسا نہیں ہونے دینا چاہئے ۔ جمہوریت میں ہم کیا کھائیں گے۔ کیا پئیں گے؟کیا پہنیں گے ؟شادی کس سے کریں گے؟اور کس مدرسہ میں پڑھیں گے ۔ غرض یہ کہ انسانوں کے بنیادی حقوق کے ضمن میں اس طرح کے سوالات اآٹھائے جارہے ہیں ۔ اقلیتوں سے ان کے یہ حقوق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جمہوریت میں اس زیادہ شرمناک بات نہیں ہوسکتی ۔ اپنی پسند اور ناپسند کے علاوہ اس طرح کی ساری باتوں کا حق ہمیں ہمارا دستور دیتا ہے اور ہمارا دستور کانگریس کا دیا ہوا ہے۔۔ اسؤ آئین کے سیکولر مزاج کے سبب یہ آئینہی نشانہ پر ہے۔ ہمیں آئین کو بچانا ہے ۔ آئین کو بچانے کے لئے بی جے پی شکست دینا اور کانگریس کو کامیاب کرنا بے حد ضروری ہے ۔ 

کرناٹک کا چناؤ اہم ہے اس کے بعد راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش اسمبلی کے انتخابات ہوں گے اور 2019میں پارلیمینٹ کے بھی انتخابات ہوں گے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کا سیدھا سیدھا اثر مذکورہ بال اننتخابات پر بھی ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کرناٹک میں کانگریس دوبارہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرے ۔ 

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ کرناٹک کی ریاست ہمیشہ سیکولر ازم کی طرف ہی مائل رہی ہے کیوں کہ یہاں مسلم ، دلت اور پسماندہ طبقات ہمیشہ سے فرقہ پرست طاقتوں کو دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے ایمپی اور سابق چیف منسٹر این دھرم سنگھ جیسے بڑے لیڈروں نے یہاں کے لوگوں کو جوڑ کر رکھا ہے۔ اس پس ماندہ علاقہ کی جس طرح پچھلے کئی سال سے ترقی ہوئی ہے یہ ایک مثال بن گئی ہے۔ اسی لئے یہاں عوام کانگریس کے ساؤتھ ہیں ۔ دستور ہند کی ترمیمی دفعہ 371J کھرگے صاحب کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس سے سارے علاقہ حیدر آباد کرناآٹک کے نوجوانوں کو 30ہزار ملازمتیں اب تک مل چکی ہیں ۔ اس دستوری ترمیمی دفعہ کے تحت اس علاقہ کے لوگوں کوسرکاری ملازمتوں میں تحفظ کے علاوہ پیشہ ورانہ تعلیمی نصابوں میں داخلوں کے لئے بھی تحفظات مہیا کئے گئے ہیں ۔ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمینٹ اور کمیونٹی ڈیولوپمینٹ اسکیموں سے یہاں کے عوام کو بہت فائیدہ پہنچا ہے۔ مذکورہ بالا مراعات کا القیتوں کو بھی فائیدہ پہنچا ہے۔ یہاں ہر ایک سیکٹر میں اقلیتوں، دلتوں اور پس ماندہ طبقات کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔گلبرگہ ضلع میں گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے جملہ 9میں سے 7نشستوں پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس بار توقع ہے کہ اس ضلع میں 7یا اس سے زیادہ نشستوں پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ 

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے بتایا کہ کانگریس نے ضلع گلبرگہ کو ایک مسلم ایم ایل اے الحاج قمر الاسلام اورایک مسلم ایم ایل سی الحاج اقبال احمد سرڈگی جیسے نامور قائیدینکےؤ طور پر دیا ۔ یہاں کے ایک مسلم کانگریسی قائدڈاکٹر محمد اصغرچلبل کو کو گلبرگہ اربن ڈیولپمینٹ کا صدر نشین بنایا گیا اور دوسرے مسلم قائید الحاج الیاس احمد باغبان کو این ای کے ایس آر ٹی سی کا صدر نشین نامزد کیا گیا ۔ پھر ریاستی ٹور ازم ڈیولوپمینٹ کارپوریشن کے صدر نشین کی حیثیت سے شہر گلبرگہ ہی کے ایک مسلم کانگریسی لیڈر عالم خان کو نامزد کیا گیا ۔ اس کے علاوہ کئی ایک ریاستی سرکاری کمیٹیوںں میں ضلعگلبرگہ اور شہر گلبرگہ کے مسلم لیڈروں کو نمائیندگی دی گئی ۔انھوں نے کہا کہ سٹیکارپوریشن گلبرگہ کے اب تک چھ تا سات مسلم قائیدین مئیر بن چکے ہیں ۔ اس کے عالوہ کئی کمیٹیوں اور اداروں میں بھی مسلمانوں کو نمائیندگی دی گئی ہے۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوسکا کہ اس علاقہ کی قیادت ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے اور الحاج قمر السلام جیسے لیڈروں نے کی ہے۔ ملیکارجن کھرگے جب سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں جب سے وہ بی جے پی پالیسیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخبت تنقید کررہے ہیں ۔ اس طرھ وہ ایک قومی لیڈر بن کر ابھرے ہیں اور آج کل وہ بہت سخت انداز میں ؤمودی جی کی مخالفت کررلے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ڈاکٹر کھرگے کے ضلع گلبرگہ میں کانگریس کو شکست سے ہمکنار کروانے کی بھر پورکوشش کررہی ہیں تا کہ یہ لوک سبھا میں زبان نہ کھول سکیں اور کمزور پڑ جائیں ۔ اس لئے اب اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ گلبرگہ کے عوام اپنے رہنما کی طاقت کو بنائے رکھیں اور سازش کو ناکام بنائیں۔ ضلع گلبرگہ اور سارے علاقہ حیدر آباد کرناٹک میں کانگریس کو ووٹ دیتے ہوئے اسے مستحکم کریں ۔ ۔ سارے علاقہ حید آباد کرناٹک میں کانگریس کے لئے اچھا رحجان ہے ۔ لوگوں کو سماجی انصاف ملا ہے اس لئے وہ کانگریس سے مطمئین ہیں ۔ علاقہ حیدر آباد کرناٹک سے حال ہی میں راجیہ سبھا میں اقلیتوں کو نمائیندگی ملنے کے سبب بھی اقلیتی طبقات میں خوشی کی لہر ہے۔ میرے رکن راجیہ سبھا بننے پرنوجوانوں نے ہر جگہ میرا استقبال کیا ہے۔ اس سے میری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ۔ میں بھر پور کوشش کروں گا کہ عوام کی امیدوں پر کھرا اتروں ۔ 


Share: